نئی دہلی،31؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک بھر میں کورونا وائرس سے دہشت کا ماحول برقرار ہے- اس درمیان ہندوستان کی 60.9فیصد آبادی کا ماننا ہے کہ انھیں ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے ضروری اشیاء کی خریداری اونچی شرح پر کرنی پڑ رہی ہے- یہ انکشاف گزشتہ روز ایک سروے میں ہوا ہے-
ملک بھر میں 26؍مارچ اور27؍مارچ کو آئی اے این ایس- سی ووٹر گیلپ انٹرنیشنل اسوسی ایشن نے کورونا ٹریکر کے ذریعہ ایک سروے کیا جس میں یہ بات نکل کر سامنے آئی-
سروے میں شامل لوگوں سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ کو ضروری چیزیں اونچی قیمت پر مل رہی ہیں - اس پر60.9 فیصد لوگوں نے 'ہاں ' میں جواب دیا اور کہا کہ انھیں ضروری چیزوں کی خریداری اونچی قیمت پر کرنی پڑ رہی ہے-
اس سوال کے جواب میں 28.7فیصد لوگوں نے 'نہیں ' میں جواب دیا- گویا کہ ان کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے- بقیہ لوگوں نے کچھ بھی جواب نہیں دیا-
دراصل لاک ڈاؤن کے دوران ضروری چیزوں کی کمی ہونے کی افواہ ہر علاقے میں پھیل گئی جس کی وجہ سے ضروری اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں نے قیمتیں بڑھا دیں - اس افواہ کی وجہ سے ہی لوگوں نے جمع خوری شروع کر دی جس کی وجہ سے ملک میں ضروری چیزوں کی کمی ہونے کے ساتھ ہی کالابازاری کو بھی فروغ ملا- اس کے علاوہ چیزوں کی فراہمی پر بھی کافی اثر پڑا-
قابل ذکر ہے کہ پی ایم مودی کی جانب سے25مارچ کو ملک بھر میں تین ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی کرانہ دکانوں پر کافی بھیڑ دیکھنے کو ملی تھی-
لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد دوا دکانوں پر بھی لوگوں نے خوب خریداری کی- ضروری چیزوں کی بڑے پیمانے پر کی گئی جمع خوری کی وجہ سے ہی اب لوگوں کو بیشتر چیزیں مہنگے داموں پر خریدنی پڑ رہی ہیں -